Urdu Adab
Urdu Adab
Aoun Sami
اک فسردہ داغ میں ہے
5 minutes Posted May 1, 2024 at 11:35 am.
0:00
5:03
Download MP3
Show notes
‏‏اک حرف فسردہ داغ میں ہے
‏اک بات بُجھے چراغ میں ہے
‏اک نام لہو کی گردشوں میں
‏طوفان میں ڈولتا سفینہ
‏ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے
‏اک شام کہ جس کے بام و در کو
‏ہاری ہوئی صبح سے شکایت
‏رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا
‏اک راہ نورد جو یہ چاہے
‏پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے
‏سر سے نہ سفر کا بار اُترے
‏پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا
‏کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی
‏کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں
‏پھر آتشِ رنگ جل اُٹھی ہے
‏ کیوں صبح کی بے عمل سپہ نے
‏ہتھیار سجا لیے بدن پر
‏مقتل میں صفیں درست کی ہیں
‏کیوں درد کے جھٹپٹے کی حد پر
‏پھر ہجر غروب ہو رہا ہے
‏پھر نظم طلوع ہو رہی ہے
‏میں کون جو انجمِ سحر سے
‏اثبات و ثبوتِ ذات چاہوں
‏دریا سے حسابِ آب مانگوں
‏صحرا سے تعینات چاہوں
‏مہتاب سے چاندنی کا معیار
‏مضراب سے زخمِ نغمۂ تار
‏میں کون شمار کرنے والا
‏میں اپنی صدا سے ڈرنے والا
‏بارش سے سفال بھرنے والا
‏میں کون سوال کرنے والا
‏کاغذ پہ سُلگتی شامِ الہام
‏تختی پہ سپیدۂ سحر ہے
‏اے سطرِ نمودِ ذات، تیرا
‏کس ساعتِ معتبر میں گھر ہے
‏اس بام پہ میرے نام کی خشت
‏دیوار پہ دَھر ایاغ میرا
‏مہتاب کو میرے روبرو کر
‏آئینہ ہو مجھ پہ داغ میرا
‏مجھ پر بھی کُھلیں حدود میری
‏مجھ کو بھی ملے سراغ میرا
‏میں کون؟ کہاں مِرا سفر ہے
‏اے سطرِ نمودِ ذات میرا
‏کس ساعتِ بے زماں میں گھر ہے
‏اک تیرِ مفاہمت سے رشتہ
‏صیّاد میں، صَید میں، ہدف میں
‏اک سیلئی موج سے ہیں پیدا
‏سو رابطے ساحل و صدف میں
‏میں اپنا حریف ڈھونڈتا ہوں
‏اک لشکرِ دردِ صف بہ صف میں
‏اُترے یہ سنانِ حرفِ وعدہ
‏خود میرے کنار میں، طرف میں
‏شاید کہ ثبوتِ ذات پاؤں
‏میں اپنی عبارتِ حلف میں
‏اختر حسین جعفری