Show notes
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔


