
زیست کا استعارہ ہو جاۓ
اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ
ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو
شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ
عین ممکن ہے عشق میں تم کو
حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ
تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں
کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ
کیا مقدر میں تھا لکھا میرے
کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ
دن گزر جاۓ گا مسرت سے
آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ
پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی
گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ
تم نظر بھر کے دیکھ لو جس کو
وہ چمکتا ستارا ہو جاۓ
عشق خود کہہ رہا تھا شوبی سے
سب پہ مت آشکارہ ہو جاۓ
Jun 22, 2024
1 min

فصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں عشق پہ جب"شین کاف"کرتا ھوں
مرا خُدا تو ھےسب کی سلامتی کا خُدا
خُدائےکُشت سے میں اِنحراف کرتا ھوں
نِزار فہم کو ھے تـابِ ارتداد کہاں
یہ لَن ترانیاں اپنے خلاف کرتا ھوں
مرےخمیر میں فرعونیت کا عُنصر ھے
بطور ایک بشر اعتراف کرتا ھـوں
میں وہ نہیں ھوں جو جَل جاؤں روشنی سے تری
میں رکھ کے فاصلہ تیرا طواف کرتا ھوں
مرے سُخن میں ھے آیاتِ آگہی کا غُلُو
رُموزِ نَحوِ خودی اِنکشاف کرتا ھـوں
مرے رفیـق مری شفقتوں پہ نازاں ھـیں
میں دشمنوں کو بھی فوراً معاف کرتا ھوں
ترے فراق سے مشروط ھے وصال مرا
سو عمر بھر کے لیے اعتکاف کرتا ھوں
گلی گلی میں تعفُّن ھے نفرتوں کا اَمـؔـر
گلاب بانٹتا ھـوں ، خـار صـاف کـرتا ھـوں
امـؔـر رُوحانی
Jun 9, 2024
2 min

سَاغر صدّیقی
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ
جو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہ
جسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا !
خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرا
مِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہ
کبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہ
جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھی
وہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہ
بَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کا
تمہاری جنبشِ اَبرو ' مِری تخلیقِ آوارہ
نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں
جہاں کچھ آدمی کرتے ہیں اپنے دَرد کا چارہ
تِرے گیسو خیالوں کی گرفتِ ناز سے گزرے
کہ جیسے ایک جوگی بَن میں لہراتا ہے دو تارہ
پلٹ آےٓ ہیں شاید انقلابِ دید کے لمحے
نظر کی وُسعتوں میں ڈوبتا جاتا ہے نظّارہ
فقط اِک ہاتھ میں ٹوٹا ہوا ساغؔر اُٹھانے سے
لَرز اٹھا ہے اے یزداں تِری عظمت کا مینارہ
May 12, 2024
2 min

”متاعِ الفاظ“
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
ھم اِسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رَستے پر
اتفاقاً ، کبھی بُھولے سے ، کہیں مل جائیں
کیا ھی اچھا ھو کہ ، ھم دوسرے لوگوں کی طرح
کچھ تکلف سے سہی ، ٹہر کہ کچھ بات کریں
اور اِس عرصۂ اخلاق و مروت میں ، کبھی
ایک پل کے لیے ، وہ ساعتِ نازک ، آ جائے
ناخنِ لفظ ، کسی یاد کے زخموں کو چُھوئے
ایک جھجھکتا ھُوا جملہ ، کوئی دُکھ دے جائے
کون جانے گا ؟ کہ ھم دونوں پہ ، کیا بیتی ھے ؟
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
اِس خامشی کے اندھیروں سے ، نکل آئیں ، چلو
کسی سلگتے ھُوئے لہجے سے ، چراغاں کر لیں
چن لیں پھولوں کی طرح ، ھم بھی متاعِ الفاظ
اپنے اُجڑے ھُوئے دامن کو ، گلستاں کر لیں
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
دولتِ درد بڑی چیز ھے ، اقرار کرو
نعمتِ غم ، بڑی نعمت ھے ، یہ اِظہار کرو
لفظ ، پیماں بھی ، اِقرار بھی ، اظہار بھی ھیں
طاقتِ صبر اگر ھو تو ، یہ غم خوار بھی ھیں
ھاتھ خالی ھوں تو ، یہ جنسِ گراں بار بھی ھیں
پاس کوئی بھی نہ ھو پھر تو ، یہ دلدار بھی ھیں
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
May 11, 2024
3 min

اک حرف فسردہ داغ میں ہے
اک بات بُجھے چراغ میں ہے
اک نام لہو کی گردشوں میں
طوفان میں ڈولتا سفینہ
ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے
اک شام کہ جس کے بام و در کو
ہاری ہوئی صبح سے شکایت
رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا
اک راہ نورد جو یہ چاہے
پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے
سر سے نہ سفر کا بار اُترے
پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا
کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی
کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں
پھر آتشِ رنگ جل اُٹھی ہے
کیوں صبح کی بے عمل سپہ نے
ہتھیار سجا لیے بدن پر
مقتل میں صفیں درست کی ہیں
کیوں درد کے جھٹپٹے کی حد پر
پھر ہجر غروب ہو رہا ہے
پھر نظم طلوع ہو رہی ہے
میں کون جو انجمِ سحر سے
اثبات و ثبوتِ ذات چاہوں
دریا سے حسابِ آب مانگوں
صحرا سے تعینات چاہوں
مہتاب سے چاندنی کا معیار
مضراب سے زخمِ نغمۂ تار
میں کون شمار کرنے والا
میں اپنی صدا سے ڈرنے والا
بارش سے سفال بھرنے والا
میں کون سوال کرنے والا
کاغذ پہ سُلگتی شامِ الہام
تختی پہ سپیدۂ سحر ہے
اے سطرِ نمودِ ذات، تیرا
کس ساعتِ معتبر میں گھر ہے
اس بام پہ میرے نام کی خشت
دیوار پہ دَھر ایاغ میرا
مہتاب کو میرے روبرو کر
آئینہ ہو مجھ پہ داغ میرا
مجھ پر بھی کُھلیں حدود میری
مجھ کو بھی ملے سراغ میرا
میں کون؟ کہاں مِرا سفر ہے
اے سطرِ نمودِ ذات میرا
کس ساعتِ بے زماں میں گھر ہے
اک تیرِ مفاہمت سے رشتہ
صیّاد میں، صَید میں، ہدف میں
اک سیلئی موج سے ہیں پیدا
سو رابطے ساحل و صدف میں
میں اپنا حریف ڈھونڈتا ہوں
اک لشکرِ دردِ صف بہ صف میں
اُترے یہ سنانِ حرفِ وعدہ
خود میرے کنار میں، طرف میں
شاید کہ ثبوتِ ذات پاؤں
میں اپنی عبارتِ حلف میں
اختر حسین جعفری
May 1, 2024
5 min

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
Apr 14, 2024
1 min

عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے
خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے
دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں
تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے
آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے
ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے
دل کے ساگر میں جو ہر شام و سحر اٹھتے ہیں
وہ تلاطم کبھی باہر نہیں دیکھے جاتے
مسکراتے ہوئے چہرے پہ نظر سب کی پڑی
زخم دل کے مگر اکثر نہیں دیکھے جاتے
حسن کے جلوے جو دیکھے ترے دیوانے نے
ہوش والوں سے وہ اکثر نہیں دیکھے جاتے
قدر کر قدر مرے ذوق نظر کی ساقی
سب حسیں یوں تو مکرر نہیں دیکھے جاتے
میکدہ اپنا ہے اور بادہ و ساقی اپنے
غیر کے ہاتھ میں ساغر نہیں دیکھے جاتے
یہ حسیں وادی و دریا گل و گلزار حبیبؔ
بن ترے مجھ سے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے
Apr 8, 2024
2 min

Words can only describe they are just references most of the time
Apr 5, 2024
1 min
Load more
