Show notes
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا، اُس پہ تیرا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رُک گئ گردشِ ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا..! پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گرانِ شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاُس کو نہ پا سکے تھے جب، دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص، وہ جو نہیں مِلا تو پھرہاتھ دُعا سے یوں گرا، بھول گیا سوال بھیشام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اِک پتاموجِ ہوائے کوئے یار کچھ تو میرا خیال بھیپروین شاکر

