Show notes
سَاغر صدّیقیﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦجو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہجسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا !خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرامِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہکبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہجہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھیوہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہبَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کاتمہاری جنبشِ اَبرو ' مِری تخلیقِ آوارہنہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیںجہاں کچھ آدمی کرتے ہیں اپنے دَرد کا چارہتِرے گیسو خیالوں کی گرفتِ ناز سے گزرےکہ جیسے ایک جوگی بَن میں لہراتا ہے دو تارہپلٹ آےٓ ہیں شاید انقلابِ دید کے لمحےنظر کی وُسعتوں میں ڈوبتا جاتا ہے نظّارہفقط اِک ہاتھ میں ٹوٹا ہوا ساغؔر اُٹھانے سےلَرز اٹھا ہے اے یزداں تِری عظمت کا مینارہ

