Khutabat e Khilafat
Khutabat e Khilafat
Rahimia Institute of Quranic Sciences
خطبات خلافت بسلسلہ افکار امام شاہ ولی اللہ رمضان المبارک 1443 مقرر: مفتی عبد الخالق آزاد رایٗے پوری ، مسند نشین سلسلہٗ عالیہ رحیمیہ رایٗے پور۔ پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan W: www.rahimia.org FB: @rahimiainstitute Twitter: @rahimia
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 45 |چوتھے اور پانچویں تغیر کے بعد دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں بڑے فتنے
*خُطباتِ خلافت*بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*خُطبہ* 45:فصل پنجم: مقصد دومچوتھے اور پانچویں تغیر کے بعد دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں بڑے فتنے (حوادث) اور ان سے متعلق احادیث ذکر کرنے کا مقصد*خطاب:* حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 28؍ رمضان المبارک 1445ھ / 8؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇▪️ سبِّ سلفِ صالحین کا درست مفہوم▪️ حقیقی اختلاف اور اختلافِ رائے میں فرق▪️ بارہ خلفاء کی خلافت تک دینِ اسلام کی مضبوط و مستحکم حکومت▪️ دینِ اسلام کے غلبے کے دو بازو: حکومتی نظم و نسق اور علمِ نبوت کے تناظر میں خلافتِ خاصہ و عامہ کا جائزہ▪️ چوتھے تغیر (دور) کے دوران دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں برپا فتنے (حوادث)▪️ خلیفہ مہدی سے متعلق تین روایات، شاہ صاحبؒ کی تحقیق اور خلافتِ بنو عباس کا علمی و سیاسی تناظر میں جائزہ▪️ عرب قومیت کا تصور، امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تحقیق میں▪️ فقہ حنفی کے دو بڑے مکاتب ہائے فکر: علمائے ما وراء النہر اور علمائے عراق▪️ پانچواں تغیر (دور) عربوں کی حکومت کا خاتمہ اور عجمیوں (ترکوں) کا تسلط▪️ خلافتِ عرب کے تناظر میں فتنوں سے متعلق احادیث ذکر کرنے کا مقصد اور مذہبی افتراق و انتشار کا ردّپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 12, 2024
1 hr 44 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 44 | تیسرے تغیر کے بعد دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں بڑے فتنےاور دو مصالحتیں
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 44:فصل پنجم: مقصد دومتیسرے تغیر کے بعد دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں بڑے فتنے (حادثات) اور دو مصالحتیںخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ رمضان المبارک 1445ھ / 7؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربوقت: آج دوپہر ڈھائی بجے۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇▪️ تیسرے تغیر (دور) کے بعد دینِ اسلام کی سیاست و خلافت میں تین بڑے فتنے (آزمائشیں) اور دو مصالحتیں▪️ پہلے فتنے کے زمانے میں چار بڑے حادثات:   1۔  جنگِ جمل   2۔  حربِ صفّین   3۔ حربِ نہروان   4۔  شہادتِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ▪️ حضرت حسنؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے درمیان مصالحت▪️ دوسرے فتنے کے بعد کے حوادثات اور اُن کے بعد دوسری مصالحت▪️ شام کی بادشاہت سے متعلق شاہ صاحبؒ کا متوازن نکتۂ نظرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 12, 2024
1 hr 39 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 43 | خلافت  کے حوالے سے اُمتِ محمدیہ میں وقوع پذیر ہونے والے تغیرات: احادیث
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 43:فصل پنجم: مقصد دومخلافت و سیاست کے حوالے سے اُمتِ محمدیہ میں وقوع پذیر ہونے والے تغیرات کا احادیث نبویہ کی روشنی میں مطالعہخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 26؍ رمضان المبارک 1445ھ / 6؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربوقت: آج دوپہر ڈھائی بجے۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇▪️ کائنات میں عالم گیر تغیر و تبدل اور مسلسل ارتقاء جاری▪️ کائنات کا خلاصہ شجرۂ انسانیت اور اس کی حفاظت کے لیے انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد▪️ شجرۂ انسانیت کے کامل ترین انسان حضرت محمدؐ اور اُمتِ محمدیہؐ کی جدوجہد▪️ تاریخ کا درست تجزیہ کرنے کا طریقہ▪️ آپؐ نے اُمتِ محمدیؐ میں خلافت سے متعلق ہونے والے تغیرات اور لاحق ہونے والے ممکنہ خطرات کی نشان دہی کردی ہے▪️ مقصدِ دوم میں خلافت و سیاست کے دائرے میں اُمتِ محمدیہؐ میں وقوع پذیر تغیرات اور لاحق ممکنہ خطرات کا بیان ہے▪️ مولانا سندھیؒ کے مطالعۂ تاریخ کی اساس ’’إزالۃُ الخفاء‘‘ہے▪️ احادیثِ نبویہؐ میں تطبیق پیدا کرنے اور اُن سے مفہوم اَخذ کرنے کا درست طریقہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 8, 2024
1 hr 47 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 42 | صحابہ کرامؓ میں حضرت امیرِ معاویہؓ کی انفرادیت کا تجزیہ
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 42:فصل پنجم:صحابہ کرامؓ میں حضرت امیرِ معاویہؓ کی انفرادیت کا تجزیہخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 24؍ رمضان المبارک 1445ھ / 4؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇▪️ پہلی دو تنبیہات کا خلاصہ▪️ حضرت علیؓ کا ’وصیٔ رسول اللہ‘ ہونے کا درست مفہوم▪️ خلافتِ خاصہ کی دو بنیادی خصوصیات▪️ ہر نظام میں دو جماعتیں اور ان کا دائرۂ کار: حضرت سندھیؒ کا اہم نکتہ▪️ تیسری تنبیہ: حضرت امیر معاویہؓ، صحابہ کرامؓ میں منفرد شخصیت اور ان کے متعلق بد گمانی کرنے کی ممانعت▪️ حضرت حسنؓ کا مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرانا▪️ حضرت امیر معاوؓیہ مجتہد اور آپؓ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعائیں▪️ کاتبِ وحی حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت و خلافت کی گواہیاں اور دلائل▪️ حضرت امیر معاوؓیہ کا خلافتِ خاصہ کے مقاصد کو پیش نظر رکھنا▪️ چوتھی تنبیہ: زمانے کے تغیرات سے پیدا ہونے والے اختلافات، ان کی قسمیں، مراتب کا جائزہ اور ہر قسم کا بنیادی حکمپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 8, 2024
1 hr 29 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 41 | خلافت علیٰ منہاج النّبوّۃ کا دورانیہ شہادتِ عثمانؓ تک: روایات کا خلاصہ
*خُطباتِ خلافت*بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*خُطبہ* 41:فصل پنجم:*خلافت علیٰ منہاج النّبوّۃ کا دورانیہ شہادتِ عثمانؓ تک*روایات کا خلاصہ، نیز پوری بحث سے متعلق دو اہم تنبیہات*خطاب:* حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*بتاریخ:* 23؍ رمضان المبارک 1445ھ / 3؍ اپریل 2024ء*بمقام:* ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور*۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇▪️ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ شہادتِ عثمانؓ تک: تواتر سے ثابت▪️ خلافت میرے بعد تیس سال ہو گی: حدیث کی حقیقت و معنویت اور درست مفہوم▪️ خلیفۂ خاص کے دو بنیادی اوصاف اور خلافتِ خاصہ و مُلکِ عَضوض میں فرق و امتیاز کی توضیح و تشریح▪️ حضرت علیؓ کے کمالاتِ عالیہ اور آپؓ کی خلافت کا قرار واقعی مقام▪️ حضرت حسنؓ کی صلح کے بعد حضرت امیر معاویہؓ کی حکومت پر سب کا اتفاق▪️ بنو اُمیہ کی خلافت اور احادیثِ نبویہؐ کے اشارات▪️ سیاسی اُمور سے متعلق احادیث کے درست فہم کی استعداد نہ رکھنے والے کو شاہ صاحبؒ کی نصیحت▪️ چار طرح کے امراضِ شخصی کا حامل ہماری گفتگو و بحث کا مخاطب نہیں▪️ پوری بحث سے متعلق چار تنبیہات▪️ پہلی تنبیہ: خلافتِ راشدہ و مابعد کے اَدوار کو سمجھنے کا ایک اہم علمی قاعدہ: تدبیرِ الٰہی کے مطابق انبیاء علیہم السلام کی طرح خلیفۂ راشد سے اللہ کام لیتا ہے▪️ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق تدبیرِ الہی کا امور طے کرنا▪️ تدبیرِ الٰہی کا خلیفہ راشد کو پانچ اُمور کی تعلیم دینا▪️ دوسری تنبیہ: زمانۂ شرور و فتن میں مخلصین کی سچی جماعت موجود رہے گی▪️ اہلِ اسلام کے پانچ طبقات (طائفہ منصورہ): تفصیلاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 8, 2024
2 hr 1 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 40 |  زمانۂ شرّ و فساد کے شرعی اَحکام اور شہادتِ عثمانؓ کے بعد کے عجیب واقعات
خُطباتِ خلافت بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ خُطبہ 40: فصل پنجم: احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں زمانۂ شرّ و فساد کے شرعی اَحکام اور شہادتِ عثمانؓ کے بعد کے عجیب واقعات خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ رمضان المبارک 1445ھ / 2؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور بوقت: آج دوپہر ڈھائی بجے ۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇▪️ زمانہ شر و فِتَن کے پندرہ شرعی احکام اور مصلحتیں ▪️ (1 غیر مستحقِ حکومت کے تسلط کی صورت میں شرعی احکام میں اس کی اطاعت کرنے کی ضرورت ▪️ قانونی نظام کی پابندی کی اہمیت، تبدیلی معاشرہ و انقلاب نظام کا درست مفہوم اور انقلابی کے کرنے کے کام▪️ (2 نافذ شدہ حکومتی احکامات کے خلاف خروج اور بغاوت کی صورت میں انتشار کی ممانعت، نیز سیاست اور نظم و ضبط کا باہمی تعلق▪️ حکمران کے کفر و فسق اور ظلم کو دلائلِ شرعیہ سے ثابت کرنا ضروری▪️ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور نبی کریم ﷺ کا اپنی جماعت کو پانچ پانچ نصیحتیں▪️ سمع و طاعت کی اہمیت اور نظم و ضبط توڑنے کی سخت وعید▪️  (3 حکمران کی بیعت اور اتھارٹی کے قیام کے بعد متوازی خلافت کے دعوے دار شخص اور خروج کرنے والے کا حکم ▪️ (4 فتنے کے زمانے میں حکمرانوں کا نمازوں میں تاخیر کرنا اور شرعی حکم▪️ (5 زکوٰۃ کی وصولی میں ظلم و تعدی کرنے والے عاملین اور شرعی حکم▪️ (6 فتنے کے زمانے میں اجتماعی جدوجہد کی طاقت نہ رکھنے والے کے لیے انفرادی عبادات میں مشغول رہنا مطلوب▪️ (7 شہری زندگی اختیار کرنے پر بیعت اور پُر فتن دور میں عوام الناس کے لیے بادیہ نشینی اختیار کرنا جائز▪️ (8 فتنے کے زمانے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق شرعی حکم ▪️ (9 حکمرانی کے لیے قریش کی باہم لڑائی کی صورت میں مالِ غنیمت میں سے حصہ نہ لینے کا حکم▪️ (10 فتنے کے زمانے میں بادشاہوں کی صحبت سے احتراز برتنے کا حکم▪️ (11 فتنے کے زمانے میں حکمران کا حکم شرعی دلیل اور حجت نہیں▪️ (12 فتنے کے زمانے میں قتال و جنگ کی ممانعت▪️ (13 سنت پر عمل پیرا ہونے والے کا اجر و ثواب▪️ (14 فتنے کے زمانے میں مر جانا زندہ رہنے سے بہتر: حدیث کا درست مفہوم▪️ (15 ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ▪️ فتنہ (شہادتِ عثمانؓ) سے قبل اور بعد کے حالات سے متعلق وقائعِ عجیبہ▪️ فتنے کا اخبارِ اہل کتاب میں ذکرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 5, 2024
1 hr 54 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 39 | خلافتِ خاصہ(فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن(حصہ سوم)
بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 39:فصل پنجم:خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیان (حصہ سوم)احادیث و آثار کی روشنی میں تیس بنیادی اُمورخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 21؍ رمضان المبارک 1445ھ / یکم؍ اپریل 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇▪️  اہم بات:یہ شرور و فتن کا مربوط سلسلہ ہے، فتنے بہ یک وقت شہادتِ عثمانؓ کے بعد ظہور پذیر نہیں ہوئے، بلکہ قیامت تک آنے والے فتنوں کی حضوؐر نے نشان دہی ہے▪️ خلافتِ خاصہ سے پہلے اور بعد کے حالات میں تغیر و تبدل سے متعلق امور کا بیان▪️ 19) نکاحِ متعہ کی آڑ میں زنا کاری، نبیذ کے نام پر شراب اور گانے بجانے کو حلال قرار دینا▪️ 20) مسلمانوں میں ایک دوسرے سے امن کا اُٹھ جانا اور معاشرے میں بد اَمنی کی فضاء پیدا ہونا▪️ 21) ریاست پر ظالم لوگ قابض، جو حکمران بننے کے مستحق نہیں: نا اہل قیادت کی بالادستی▪️ 22) اَرکانِ اسلام کے قیام میں فتورِ عظیم (بڑی خرابی) واقع ہونا: شہادتِ عثمانؓ کے بعد کسی خلیفہ کا بذاتِ خود حج کا انتظام نہ کرنا▪️ 23) عبادات میں تشدد و تعمق اور دینی رُخصتوں سے راضی نہ ہونا▪️ جادۂ قویمہ اور کوتاہ نظر فقہائے متأخرین▪️ 24) نبی اکرم ﷺ کا دو فتنے ذکر فرمانا▪️ حکومت و سلطنت کی دو بنیادیں▪️ ان دو فتنوں سے متعلق حضرت سعید بن مسیبؒ کی رائے اور شاہ صاحبؒ کا مؤقف▪️ 25) نبی اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے نظام کا شہادتِ عثمانؓ تک باقی رہنا اور پھر فتنے پیدا ہونے کا عمل شروع▪️ 26) نبی اکرم ﷺ نے فتنوں کی تعداد متعین کردی: چھ باتیں▪️ 27) بیت المقدس (شام کی مرکزیت) کا آباد ہونا اور مدینہ منورہ کی ویرانی کا سبب، نیز جنگیں اور قسطنطنیہ کی فتح▪️ خروجِ دجال اور قیامت کی علامات سے متعلق نصوص کا درست مفہوم▪️ 28) حضرت ابو عبیدہؓ و حضرت معاذؓ کی حدیث▪️ 29) ابن ماجہؒ کی روایت▪️ 30) حضرت مرداس اسلمیؓ کی روایتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 5, 2024
1 hr 34 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 38 | خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیان
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 38:فصل پنجم: (حصہ دوم)خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیاناحادیث و آثار کی روشنی میں تیس بنیادی اُمورخطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 20؍ رمضان المبارک 1445ھ / 31؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔  احادیث و آثار کی روشنی میں فتنۂ شہادتِ عثمانؓ سے پہلے و بعد کی حالت: تیس بنیادی اُمور کی نشان دہی 8) ذاتِ باری تعالی کے متعلق سوالات کی بہتات 9) دینِ اسلام میں بیگانہ علم: اسرائیلیات کا اختلاط اور خرابیاں قرآن حکیم کی جامعیت و اَبدیت اور تمام الہامی کتابوں کا محافظ 10) تقرّبِ بار گاہِ الٰہی کے لیے نئے نئے اَوراد و وَظائف کا اختراع، نفل کو واجب کا درجہ دینا اور کسی انفرادی وِرد کو مستقل وظیفہ بنا کر اس کی دعوت کا عمل؛ گمراہی کا نیا دروازہ 11) خلیفہ و حکمران کی اجازت کے بغیر وعظ و نصیحت و فتوے جاری کرنا علامہ شہرستانی کے مؤقف کی تردید دورِ فتن کے اختلافِ رائے کو سنت قرار دینا مفسدہِ عظیمہ اور شاہ صاحبؒ کا تجدیدی کارنامہ 12) مسلمانوں کے درمیان جنگ و جدال اور قتل و غارت گری کا شروع ہونا 13) حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد سلفِ صالحین پر سبّ و شتم 14) مسلمانوں میں افتراق و انتشار اور مختلف فرقوں میں تقسیم ہونا 15)  خوارج کا ظہور، نیز ان کی تاریخ، پسِ منظر اور منفی طرزِ عمل 16 و 17)  قدریہ و مرجئہ کا پیدا ہونا 18) روافض کا پیدا ہونا، نیز حضرت علیؓ سے بغض اور محبت میں غلو کرنے والوں کا معاملہ فکرِ اسلامی میں خرابی کا مرکز اور تمام گمراہ فرقوں کا منبع یہی چار فرقے (خوارج و روافض اور قدریہ و مرجئہ)
Apr 3, 2024
1 hr 44 min
خُطباتِ خلافت |خُطبہ 37 | خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیان
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 37:فصل پنجم:خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیاناحادیث و آثار کی روشنی میں تیس بنیادی اُمور (حصہ اوّل)خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 19؍ رمضان المبارک 1445ھ / 30؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔  احادیث و آثار کی روشنی میں فتنۂ شہادتِ عثمانؓ سے پہلے و بعد کی حالت: تیس بنیادی اُمور 1)  اسلام کی چکّی کے 35 سال اور شاہ صاحبؒ کی تشریح 2) خلافتِ خاصہ (الخلافہ) اور خلافتِ عامہ (الملک) کے مراکز: خلافت و بادشاہت کی وضاحت 3) خلافتِ خاصہ کے بعد امانت و دیانت کا اُٹھ جانا، عالمگیر فتنے کا آغاز 4) جھوٹ کا فروغ اور جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا آغاز اور اُن کے مراکزجمعِ حدیث میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا کردار اور دیوانِ حدیث کا قیام 5) تجویدِ قرآن میں تعمق و انتہاء پسندی اور قرآن کی تفقُّہ و بصیرت اور معنی سے توجہ کا ہٹنا 6) محکمات پر عمل میں کوتاہی اور متشابہاتِ قرآنیہ کی تاویل میں تعمق اور انتہاء پسندی 7) فقہی مسائل میں تعمق اور افتاء و سوالات میں انتہاء پسندیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 3, 2024
1 hr 40 min
خُطباتِ خلافت | خُطبہ 34 | خلفائے اربعہؓ کی خلافتِ خاصہ کے اَفعال و صفات اور خصوصیات
خُطباتِ خلافتبسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 34:خلافتِ راشدہ کی حقّانیّت اور لوازمات؛خلفائے اربعہؓ کی خلافتِ خاصہ کے اَفعال و صفات اور خصوصیات کی تفصیلات اور دلائلفصل چہارم کا خلاصہ (حصہ دوم)خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15؍ رمضان المبارک 1445ھ / 26؍ مارچ 2024ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔  خلیفہ خاص کے دیگر خِصال‘ صفاتِ نبوت سے متصف اور اَفعالِ نبیؐ کی صلاحیت کا حامل فرد جانشینی کا اہل نبی اکرم ﷺ کے اَفعال کی شریعت میں بڑی تاکید اور اَفعالِ نبویؐ کی تین بڑی قسمیں خلافتِ خاصہ (خلفائے راشدینؓ) کے تین بڑے کام:1۔  خلیفہ میں خدا پرستی و انسان دوستی کا اعلیٰ درجے میں خُلق موجود ہو2۔  غلبۂ دین اور دشمنانِ دین سے لڑائی کے لیے اپنے نبیؐ کی اعانت و مدد کی ہو3۔  نبی اکرمؐ کے چھوڑے ہوئے کاموں کی تکمیل میں کردار ادا کرنے والا ہو خلیفہ کامل کی تین صفاتِ نفسانیہ:1۔  پہلی قسم: سب سے زیادہ قربِ الٰہی اور سبقتِ اسلام (خلیفہ کے سابقین و مقربین ہونے کے دلائل)2۔  دوسری قسم: حکمت آمیز علم اور تبلیغِ شرائع میں نبی کا نائب3۔  تیسری قسم: عالمی ریاست کے اُمور سرانجام دینے کی صلاحیت: تدبر و حزم، شجاعت و کفایت، مردم شناسی اور نظم و نسق میں متعلقہ افراد سے رفاقت خلیفہ خاص کی نبی سے مشابہت کی تین خصوصیات:1۔  لسانِ نبوت سے جنت کی بشارت2۔  نبیؐ کا اپنے قول یا فعل سے نائب مقرر کرکے حکومتی کام سپرد کرنا3۔  وحیٔ الٰہی کے مطابق اس فرد کا افضلِ اُمت ہونا خلفائے اربعہؓ کے اَفعال و صفات اور خصوصیات کے دلائل خلیفۂ خاص کا کیا ہوا فیصلہ قولِ ممکَّن (حجت) ہے اُمت مکمل طور پر گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی جماعتی ڈسپلن اور اس کے منظور کیے ہوئے فیصلوں کی اطاعتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
Apr 3, 2024
2 hr 6 min
Load more