
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
Dec 5, 2020
4 min

اس بستی کے اک کوچے سے میں سے انتخاب آواز و پیشکش ظہور احمد
Nov 4, 2020
13 min
Load more
