Show notes
بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں میں اکیلا ہوں ساتھ کوئی نہیں اب سہولت پہ ہی قناعت ہے ہوس ممکنات کوئی نہیں برگزیدہ ہے میرا سایہ بھی میرے سائے میں ہاتھ کوئی نہیں خوف آئے تو کھانس لیتا ہوں یعنی فطرت میں گھات کوئی نہیں ایک حد میں رکھا گیا ہے مجھے اور حد سے نجات کوئی نہیں

